توقیر شریفی ۔۔۔ جب ہم طریقِ لذتِ ابہام تک گئے (ماہنامہ بیاض لاہور مارچ 2022 )

جب ہم طریقِ لذتِ ابہام تک گئے
بندِ قبائے زینتِ آرام تک گئے

اک جسم کے الاؤ کے کہرام تک گئے
دل کو کہاں سے روکتے، انجام تک گئے

خوشبو اسی کی ذہن کے آنگن میں بس گئی
سوچوں کے سارے زاویے گلفام تک گئے

ہم کو سوات وادی کا جس نے پتہ دیا
اس مہ جبیں کو ڈھونڈنے کالام تک گئے

کس خیرگی کو ماپنے کا شوق تھا کہ ہم
جب دامنِ دریدۂ مادام تک گئے

نا آشنا خوشی تھی تو واقف ملال تھا
ملنے کو دوستوں سے بھی دشنام تک گئے

سچائیوں کے جسم پہ اک جھوٹ اوڑھ کر
خلقت کے ساتھ ساتھ یہ خدام تک گئے

تہذیب تھی نہ عقلِ سلیم اپنے بس کی تھی
سو گفتگو میں درجۂ ہنگام تک گئے

بستی کے نامیوں سے ذرا یہ تو پوچھیے
توقیر کیسے خلعتِ بدنام تک گئے

Related posts

Leave a Comment